ڈھلائی گھر

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - جہاں چیزیں ڈھلتی ہوں، بھٹی۔ "یہ سلطنت بھر کے قلعوں اور صوبوں میں توپوں کے ڈھلائی گھروں اور سلاخ خانوں میں خدمات بجا لاتے تھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٩١:٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'ڈھلنا' کا اسم کیفیت و اسم معاوضہ 'ڈھلائی' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ اسم 'گھر' لگانے سے مرکب 'ڈھلائی گھر' بنا۔ ١٩٤٨ء کو "انجینیئری کارخانہ کے عملی چالیس سبق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جہاں چیزیں ڈھلتی ہوں، بھٹی۔ "یہ سلطنت بھر کے قلعوں اور صوبوں میں توپوں کے ڈھلائی گھروں اور سلاخ خانوں میں خدمات بجا لاتے تھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٩١:٣ )

جنس: مذکر